تو جو مل جائے
تو جو مل جائے از انا الیاس قسط نمبر14
"ہيلو بھائ کيسے ہيں" وہ آفس ميں بيٹھا تيزی سے کسی رپورٹ پر کام کر رہا تھا کہ نيہا کی کال آگئ۔ "بالکل ٹھيک الحمداللہ تم سنائ کيسے ہيں سب گھر مںيں" ساتھ ساتھ کام کر رہا تھا ساتھ ساتھ ہينڈ فری پر بات ہو رہی تھی۔ "بھائ پرسوں سے ہماری وکيشنز سٹارٹ ہو رہی ہيں تو ہم سب پلان بنا رہے تھے کہ آپ کے پاس کوئٹہ آجائيں ليکن ممی اور چچی نہيں مان رہيں" نيہا نے منہ بسور کر کہا۔ "ارے ممی کيوں منع کر رہی ہيں" وہ حيران ہوا۔ "پتہ نہيں بس کہہ رہی ہيں نہيں جانا" "اچھا تم ممی اور چچی کو چھوڑو جس جس نے آنا ہے ميں پلين کی ٹکٹس کروا ديتا ہوں مجھے دن اور ٹائم بتا دينا جب آنا ہو۔ ممی کو ابھی کچھ نہيں بتانا ميں خود انہيں بتا دوں گا اور نہ ہی اپنی اس عقل مند دوست کو بتانا۔ ہبہ کے لئيے سرپرائز ہوگا" خبيب نے جلدی سے ان کا پروگرام طے کر ديا۔ "اوہ تھينک يو بھائ" وہ خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی۔ "اچھا بس اب نو مور بٹرنگ" اس نے بھی ہنستے ہوۓ جواب ديا۔
رات ميں وہ کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے ميں آچکا تھا۔ وہيبہ کچن صاف کرکے پھر کمرے ميں جاتی تھی۔ ابھی وہ ليٹ کر کمبل اوڑھ ہی رہا تھا کہ رقيہ بيگم کی کال آگئ۔ اس نے ناچار اٹھا لی۔ "اسلام عليکم" بادل نخواستہ ان پر سلامتی بھيجی۔ "وعليکم سلام۔۔کيسے ہو۔۔وہيبہ کا موبائل خراب ہے کيا" انہوں نے حال چال پوچھتے ساتھ ہی سوال کيا۔ خبيب کو تو بڑے دنوں سے ان کے فون کا انتظار تھا۔ "جی نہيں کيوں" اس نے جان بوجھ کر پوچھا۔ "ميں جب کال کرتی ہوں اسکا موبائل بزی ہوتا ہے" ان کے سوال پر ايک تلخ مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھری۔ "اس نے آپ کا نمبر دائيورٹ پر کر ديا ہے۔۔کيونکہ وہ آپ سے بات نہيں کرنا چاہتی" خبيب کی بات پر وہ غصے سے پيچ وتاب کھا کر رہ گئيں "کيا بکواس ہے۔۔۔کيوں بات نہيں کرنا چاہتی اماں ہوں ميں اسکی" انہوں نے کڑک لہجے ميں کہا۔ "وہ اماں جنہوں نے اسکی حقيقی ماں سے اسے جدا کيا۔ آپ کو اب بھی اپنی غلطی کا کوئ احساس نہيں کہ آپ نے ايک بچی کے ساتھ کتنا ظلم کيا ہے" رقيہ بيگم کا نمبر وہيبہ نے نہيں خود خبيب نے ڈائيورٹ کالز پر کر ديا تھا۔ اور يہ کام اس نے يہاں آتے ساتھ ہی اگلے دن کيا تھا۔ جانتا تھا وہ فون کريں گی۔ وہ يہ بھی جانتا تھا کہ اب جب تک انہيں احساس نہيں دلايا جاۓ گا تب تک وہ اپنی غلطی کو نہيں مانيں گی۔اور يہ موقع خبيب کو بہترين اور آخری بھی لگا تھا۔ وہ اب تب تک انہيں وہيبہ کے سامنے نہيں لے جانا چاہتا تھا جب تک وہ اپنے کئيۓ پر شرمندہ نہ ہو جاتيں۔ آخر کبھی تو انہيں احساس ہو کہ انہوں نے کتنے لوگوں کی زندگياں تباہ کی ہيں۔ اور جب تک وہ وہيبہ اور خاص طور پر خديجہ چچی سے معافی نہين مانگ ليتيں۔ وہيبہ کے دل ميں انکے رويے کی تکليف ہميشہ کسک بن کر رہے گی۔ "کيا غلط کياہے ہر کوئ مجھے سمجھانے بيٹھا ہوا ہے۔۔۔کيا تم ايک ماں کی جالت سمجھ سکتے ہو جس کا بيٹا اس کے سامنے تن کر کھڑا ہو اور کہے ميں نے لڑکی پسند کر لی ہے جاکر رشتہ ليں" "دادی انہوں نے رشتہ کرنے کا کہا تھا نہ شادی کرکے تو نہيں لے آۓ تھے نا۔ اور ميرے نزديک پسند کی شادی ماں باپ کی مرضی اور رضا کے ساتھ کرنا کوئ گناہ نہيں مگر ہمارے معاشرے نے اسے گالی بنا ديا ہے۔ کيا آپ نہيں جانتی کہ حضرت خديجہ رضی اللہ عنہا نے لڑکی ہو کر شادی کا پيغام ہمارے پيارے رسول اللہ کو بھيجا تھا۔ تو پھر ہم اسے کيسے گناہ بنا سکتے ہيں۔ اگر آپ رسان سے جا کر چچی کو ديکھ کر انکی پسند پر مہر لگا ديتيں تو وہ ساری زندگی آپکے اور بھی تابعدار رہتے۔ ليکن آپ نے نہ صرف لڑ جھگڑ کر انکی بات مانی بلکہ انکے جگر کے گوشے کو ان سے اس طرح دور کيا کہ جو قريب رہ کر دوری کی آگ ميں ساری زندگی جھلستی رہيں۔ اگر آپ نے چچی سے بدلہ ليا تو نہايت بدصورت طريقے سے انہوں نے تو آپکے بيٹے کو آپکا رہنے ديا جبکہ آپ نے انکی اولاد کو انکا نہيں رہنے ديا۔ اگر احتساب کريں تو آپ خود جان جائيں گی کہ زيادہ ظالم کون ہے اور اللہ ظلم کرنے والے کو پسند نہيں کرتا۔ دادی اللہ نے حقيقی رشتے اسی لئيے بناۓ ہيں کہ انکی ايک اپنی حيثيت اور اہميت ہوتی ہے ہر انسان کی زندگی ميں۔ اگر ايسا نہ ہوتا تو کوئ بھی ماں کی جگہ کسی دوسری عورت کو بآسانی دے ديتا۔ ميں اس بات کو نہيں مانتا کہ بچے صرف پيار کے بھوکے ہوتے ہيں۔ اگر ايسا ہوتا تو کوئ بھی بچہ ماں سے مار کھا کر واپس ماں کی گود ميں کبھی پناہ نہ ليتا۔ آپ اس بات کو مان ليں کہ ہر رشتے کی محبت ہر انسان کی زندگی ميں الگ سے مقام رکھتی ہے۔ آپ نے اسے بيٹی تو بنا ليا مگر خود اسکی ماں نہيں بن سکيں کيونکہ آپ اسکی ماں ہی نہيں تھيں۔ آپ اس بات کو جان ہی نہيں سکتيں آپ نے کتنا بڑا خلا اسکی زندگی ميں پيدا کر ديا ہے۔ آپ کو اندازہ ہے وہ کيوں ہر رشتے سے انکار کرتی تھی کيونکہ آپ نے چچا چچی کی زندگی کی اتنی بری شکل اسکے سامنے پيش کردی تھی کہ اس کا اس رشتے پر سے محبت پر سے اعتبار ختم ہوگيا ہے۔ اور آپ نے نہ صرف اسکے ساتھ زيادتی کی ہے بلکہ ميرے ساتھ بھی کی ہے۔ اب وہ ساری زندگی آپ سے ملنا نہيں چاہتی۔ ہوسکے تو اپنی غلطيوں کا احساس کرکے معافی مانگ ليں۔ معافی مانگنے سے کوئ چھوٹا نہيں ہو جاتا اور بالفرض لوگوں کی نظر ميں چھوٹے ہو بھی جائيں مگر اللہ کی نظر ميں تو بڑے بن جائيں گے نا۔ پليز دادی اچھی طرح سوچيں اس سے پہلے کہ بہت دير ہو جاۓ نہ معافی کی يہاں مہلت ملے نہ اللہ کے پاس۔" خبيب کی باتوں پر انکے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ انہون نے اسکی بات مکمل ہوتے آہستہ سے فون رکھ ديا۔ کيا کيا نہ احساس دلا گيا تھا وہ۔ مگر وہ ابھی بھی کشمکش ميں تھيں۔ ضمير کی عدالت ميں کھڑے ہونے سے گھبرا رہيں تھيں۔ اور انسان وہيں گھبراتا ہے جہاں اسے معلوم ہو کہ وہ غلط ہے۔
"يار آج کچھ گسٹس نے آنا ہے تو آپ ذرا زيادہ کھانا بنا لينا دوپہر ميں" آفس جانے سے پہلے خبيب وہيبہ کو ہدايت کرتا آفس کے لئيۓ نکلنے لگا۔ "کون سے گسٹ ہيں" اس نے حيرت سے پوچھا۔ کل تک تو کوئ ذکر نہيں تھا۔ "بس ہيں کچھ اسپيشل گيسٹ" جلدی جلدی اپنی چيزيں سميٹتے ہوۓ بولا۔ "افوہ کتنے لوگ ہيں کچھ آئيڈيا تو ہو" اس نے چڑ کر پوچھا۔ "يہی کوئ سات آٹھ لوگ" اس نے ڈائينگ چئير سے اٹھتے ہوۓ کہا۔ "اتنے لوگ کيا آپکی بارات آرہی ہے" اس کی بات پر خبيب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔ "سات آٹھ سو نہيں کہا۔۔۔ اور ويسے بھی آپکو ميری بارات کی بڑی جلدی ہے آپ نے کيا بھنگڑے ڈالنے ہيں" خبيب نے شرارت سے کہا جانتا تھا اب کوئ سڑا ہوا جواب آۓ گا۔ "نہيں پھلجھڑياں چھوڑنی ہيں آپکی بيگم کے لہنگے ميں" اسکی بات پر خبيب نے بھرپور قہقہہ لگايا۔ "اتنی تخريبی سوچ ويسے آپکو ميری ہونے والی دوسری بيوی سے اتنی چڑ کيوں ہے۔۔۔۔يا پھر اسے جيلسی سمجھوں" وہ شرارت سے اسکے قريب آيا۔ جو بليک ٹراؤذر پر ريڈلانگ کارڈيگن اور اسکارف لئيۓ خبيب کی صبح کو فريش بنارہی تھی۔ "ہمم۔۔ جيلس ہوتی ہے ميری جوتی" اس نے نخوت سے کہا۔ "اچھا اب صبح صبح غصہ مت کريں خاصی بھيانک لگتی ہيں" اسکی لٹ پر پھونک مار کر بولا۔ "اچھا اب جائيں تاکہ ميں سکون سے کچھ بناؤں" اس نے جان چھراتے ہوۓ کہا۔ "اف ظالم عورت" وہ جو مڑ کر جانے لگی تھی خبيب کی بات پر غصے سے مڑی۔ "پھر عورت کہا مجھے" اس نے انگلی اٹھا کر وارن کيا۔ "اوہ سوری سوری يور ہائ نيس۔۔۔۔اب خوش" خبيب نے جلدی سے پينترا بدلا۔ "ديٹس بيٹر" اس نے ايک شان سے کہا۔ پھر ہولے سے ہنس دی اسکی ہنسی نے خبيب کو مسحور کرديا۔ يکدم آگے بڑھ کر ہولے سے اسے خود سے لگايا اور پھر باۓ کہتا چلا گيا۔ جبکہ وہيبہ کتنی دير ششدر کھڑی رہی۔ پھر اپنا چہرہ تھپ تھپا کر خود کو نارمل کرنے کی کو شش کی۔
دوپہر ميں جب وہ کھانا بنا کر فارغ ہوئ گيٹ کھلنے کی آواز آئ۔ گارڈز دروازے پر موجود رہتے تھے۔ لہذا کسی کے بيل بجانے سے پہلے ہی ساری انفارميشن لے کر پھر بندے کو اندر بھيجتے تھے۔
وہيبہ نے کچن کی کھڑکی سے جونہی ںظر باہر کی۔ نيہا، سبحان، فارا، ربيعہ، کاشف، سمارا اور وہاج اور ان کا بيٹا اندر آتے نظر آۓ۔ اسے تو اپنی آنکھوں پر يقين ہی نہيں آيا ۔
تيزی سے کچن سے باہر آئ اور خوشی سے ايک ايک سے لپٹ گئ۔
خبيب بھی انکے ساتھ تھا۔
انہيں خود ائير پورٹ ريسيو کرنے گيا تھا۔
وہيبہ کی تو رم جھم شروع ہو چکی تھی۔
" مجھے بتايا کيوں نہين آپ نے" اپنے آنسو پونچھتی اس نے خفگی سے خبيب کو ديکھا۔
"بتا ديتا تو آپ اتنا اموشنل سين کيسے کرتيں" اس نے وہيبہ کے آنسوؤں کی جانب اشارہ کيا۔
"چلو انہيں بيٹھنے تو دو نا" خبيب نے خفيف سا اشارہ کيا۔
"اوہ پليز بيٹھيں نا" اسے يکدم اپنی غفلت کا احساس ہوا۔
"ہبو تم اتنا اچھا کھانا پکانا سيکھ جاؤ گی مجھے تو اندازہ ہی نہيں تھا" سمارا بھابھی نے فورمے کا نوالہ ليتے ہوۓ ستائشی انداز ميں کہا۔
"سيريس نہ لينا بھابھی کی بات کو يہ لوگوں کا دل بہت اچھا رکھتی ہيں"خبيب نے وہيبہ کی خوشی کو غارت کرنا ضروری سمجھا۔
"جی نہيں بھائ واقعی ہبہ نے بہت مزے کا بنايا ہے" نيہا اور فارا نے بھی اسکی نفی کی۔
"تم دونوں تو کہو گی ہی آخر اتنے دن اب تم لوگوں نے اسی کے گھر پر رہنا ہے" خبيب انکے جذباتی ہونے کو خاطر ميں لاۓ بغير بولا۔
"اور وہيبہ کے ہاتھ کا ہی کھانا بھی کھانا ہے" کاشف نے بھی ٹکڑا لگايا دونوں ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسے۔
وہيبہ نے ايکدم آگے ہو کر گلاس ميں پانی ڈالا پھر گلاس کو اس انداز سے ہلکا سا ہاتھ مارا جيسے غلطی سے اس کا ہاتھ لگ گيا ہو ليکن گلاس کے پانی نے خبيب کی پليٹ مير پڑی ہوئ ملائ بوٹی کو نہلا ديا۔
"اوہ سوری غلطی سے ہوگيا" جس قدر معصوم شکل بنا کر تيزی سے اپنی جگہ سے اٹھتے اس نے ادھر ادھر ہاتھ مارتے ايکٹنگ کی باقی سب تو امپريس ہوۓ مگر خبيب اسکے پيچھے چھپی مکاری کو اچھی طرح پہچان گيا۔
سب جلدی جلدی چيزيں سميٹنے لگے۔
خبيب نے اسے گھورا جو شرارتی نظروں سے اسکی جانب ديکھ رہی تھی۔
تھوڑی دير بعد خبيب واپس آفس کے لئيۓ نکلنے لگا۔
"ہبہ بات سننا" وہ جو کچن ميں چيزيں سميٹ رہی تھی اسکی پکار پر اسکے پيچھے کمرے ميں آئ۔
اس نے پہلے تو دروازہ بند کرکے اسکی پونی ميں بندھے بالوں کو ہلکا سا کھينچا۔ وہ سی کر گئ۔
"ميرے سارے کھانے کا بيڑہ غرق کيوں کيا" خطرناک تيوروں سے اسے ديکھا۔
"اور وہ جو ميرے کھانے کا مذاق اڑايا جا رہا تھا"اس نے بھی ہاتھ کمر پر رکھ کر گھورا۔
"تو تعريف کے قابل کب ہيں" اس نے وہيبہ کو چڑايا۔
"آج رات لگتا ہے آپ نے بھوکے سونا ہے"
"ہاں نا آج آپکو کچا چباؤں گا" خبيب کی بات پر اوہ گھبرائ۔
"کيا مطلب اس فضول بات کا۔" اسے خطرے کی گھنٹياں نظر آئيں۔
"مطلب يہ کہ آج آپ ميرے روم ميں شفٹ ہو جائيں۔۔۔ميں ہمارے رشتے کو لے کر کسی پر فضول کا امپريشن نہيں ڈالنا چاہتا۔ ہمارے جو ايشوز ہيں ہم تک رہيں تو بہتر ہيں کسی کے سامنے ميں اسے کھولنا نہين چاہتا اور نہ کسی کو ان پر بات کرنے کا موقع دينا چاہتا ہوں۔۔چاہے وہ ميری بہن يا ميرا بھائ ہی کيوں نہ ہو۔۔آئ ہوپ آپ آرگيو نہيں کريں گی۔۔" خبيب نے سنجيدگی سے کہا۔
"اوکے۔۔" اس نے تو يہ سوچا ہی نہيں تھا کہ ان لوگوں کے آنے کے بعد اسے يہ سب پھر سے کرنا پڑے گا۔
وہ بھی نہيں چاہتی تھی کہ انکے خود سے کوئ فيصلہ کرنے سے پہلے کوئ تيسرا ان دونوں کی زندگی کے بارے ميں الٹی سيدھی بات کرے۔
لہذا خبيب کی بات وہ سہولت سے مان گئ۔ خبيب نے بھی شکر ادا کيا۔ نہيں تو اسے اميد تھی ايک لمبی بحث کرنی پڑے گی اسے اس وقت کی نزاکت سسمجھانے کے لئيے